Thursday, February 12, 2009
Symbolic depiction of a national tragedy
by Schezee Zaidi
Islamabad: Mohammad Hameed Shahid's Urdu novel "Mitti Adam Khati Hai" launched at Pakistan Academy of Letters (PAL) on Monday is an attempt to portray the national tragedy of 1971 debacle in a more humanistic way. Starting from the title to the neatly woven realistic characters, the author paint a symbolic picture of the debacle, connecting it to the impact left on the hearts and minds of the people of this country.In an informal ceremony, PAL Chairman Iftekhar Arif, National Language Authority Chairman Professor Fateh Mohammad Malik, eminent writer and literary critic Mansha Yaad and Ali Mohammad Farshi evaluated the book as a unique experiment reflecting the point of view of the author presented through a creative window. Professor Fateh Mohammad Malik, in his comment on the book, said that it raises those pertinent questions about the 1971 debacle that have remained unanswered even today. Talking about Intezar Hussain's 'Basti' and Mustansar Hussain Tarar's 'Rakh', he said, very little has been written on Pakistan's independence and 1971 debacle in Urdu Novels and travelogues. Fateh Malik expressed contentment that today's writers have started reflecting on national thoughts in their writings.
Iftikhar Arif said that very little has been written about the 1971 debacle in Urdu literature and whatever came in writing was one-sided. He said that one cannot blame any one or a group , but there was a need to capture the event on the whole, giving the true perspective of the role of United States, India, the freedom movement of Bengalis and the mistakes made by our leaders of the time that led to this national tragedy. He said that apart from Masood Mufti's memoir, very little has been written on this national tragedy in Urdu. Iftikhar Arif said that Hameed Shahid's book raises issues that are our very own in an effort to highlight a point of view expressed with inspired porthole. Mansha Yaad reflected on the book as an experiment of the author. He said that being an 'afsana-nigar' with a number of books to his credit, Hameed Shahid could not refrain from his style and evolved a new style by absorbing both fiction and short story style in his first novel. Giving a detailed snap of the characters portrayed by the author has woven a pragmatic portrait of people experiencing the same sensitivities of ache and pain in the same chronological background.
Ali Mohammad Farshi sketched the technical and philosophical context of the book and the weaving of various characters by the author, terming it as a parallel story linking the national and geographical tragedy. He said that the book depicts a humanitarian element out of a political upheaval.(The News: Islamabad: 20.03.2007)
کردار سازی کا ہنر دیکھتے ہوئے مجھے منٹو یاد آ گیا ظفر اقبال
نے کہیں بیچ ہی میں چھوڑ دیا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فکشن کے معاملے میں میرا ہاتھ کس قدر تنگ ہے۔ البتہ افسانے کی بات اور ہے کہ یہ دس پندرہ منٹ میں ہی نمٹ جاتا ہے اور آپ فارغ۔ جبکہ انتظار حسین کا ناول “آگے سمندر ہے” واحد تصنیف ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے میں پورا پڑھ گیا۔ خاص وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اس میں حسب معمول عمدہ نثر کا جادو جاگ رہا ہے کہ انتظار حسین تو اس لحاظ سے واقعی جادو گر ہے، ہاں یاد آیا، مستنصر حسین تارڑ کا ناول “بہاؤ” بھی ان خوش قسمت ادب پاروں میں شامل ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ اور ناول بھی اس فہرست میں ہوں جو مجھے یاد نہیں آ رہے۔اب آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اگر حالات یہ ہیں تو میں اس پر لکھنے کیوں بیٹھ جاتا ہوں ۔ تو، اس کا جواب ایک اور سوال میں موجود ہے کہ میں کالم کیوں لکھتا ہوں ؟ اگر آپ کی تسلی ہو گئی ہو تو اب ہمیں آگے چلنا اور شاہد حمید کے ناول پر بھی بات کرنی چاہئے اگرچہ کالم تنقید کی ذیل میں نہیں آتا لیکن تنقید واحد صنف ادب ہے، اگر اسے ادب کہا جا سکتا ہو، جس میں طبع آزمائی کے لئے کسی کوالیفکیشن کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ یعنی اگر آپ واجبی اردو جانتے ہیں اور جس صنف ادب پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں ، اس کی واجبی شد بدھ آپ کو حاصل ہے تو آپ بڑی آسانی سے نقاد کہلا سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ اب وہ لوگ چکھنے کے لئے بھی دستیاب نہیں جو تنقید کو تخلیق بنا دینے کا ہنر جانتے تھے۔ کیونکہ ہر صنف ادب کی طرح تنقید بھی، میں سمجھتا ہوں ، کہ کم از کم قابل مطالعہ ضرور ہو، جو کہ یہ اکثر اوقات نہیں ہوتی۔ بیشک اسے فکشن کی طرح نہیں پڑھا جانا چاہئے۔پروپیگنڈے کا جدید روسی نظریہ یہ ہے کہ اگر مثلاً کسی فلم میں ، چلتے چلتے، کوئی اشارہ سا ہو جائے تو وہ پوری فلم سے زیادہ کام کر جاتا ہے۔ اسی طرح اس ناول کا ایک کردار ہے، جو نہایت مختصر ہونے کے باوجود ذہن میں دیر تک جگمگاتا رہتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں ناول کے اندر کرداروں کی تعداد جتنی کم ہو گی، وہ اتنا ہی زیادہ اثر انگیز ثابت ہو گا۔ کیونکہ کردار اگر زیادہ بھی ہوں تو ایسے کہ قاری کے ذہن میں محفوظ ہوتے جائیں ۔ یہ نہ ہو کہ کسی کردار سے مانوس ہونے کے لئے آپ کو ناول کے کچھ حصے دوبارہ پڑھنا پڑیں ۔ اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ مرکزی کردار ہی اتنا جاندار ہوتا ہے کہ باقی بہت سے کردار ثانوی حیثیت اختیار کرتے ہوئے اپنا نقش قاری کے ذہن میں زیادہ دیر تک کے لئے قائم نہیں کر پاتے۔میرے ساتھ ایک خرابی یہ بھی ہے کہ میں زیر نظر تصنیف کا تجزیہ نہیں کرتا۔ شاید یہ میرے بس کا روگ بھی نہیں ہوتا کیونکہ میں تو شاعری کا تجزیہ بھی بالعموم نہیں کرتا کیونکہ میرے نزدیک اس چیر پھاڑ سے شاعری کا سارا حسن ہی ماند پڑ جاتا ہے، جبکہ میرے خیال میں شاعری سمجھنے کے لئے کم، اور لطف اندوز ہونے کے لئے زیادہ ہوتی ہے۔ میں تو اپنے کالم میں یہ اطلاع ہی دیتا ہوں کہ فلاں کتاب چھپ گئی ہے، اور مجھے کیسی لگی ہے۔ چنانچہ اس کالم کی افادیت بیشک اتنی سی ہی کیوں نہ ہو کہ محمد شاہد حمید کے شائق بہت سے پڑھنے والوں کو علم ہو جائے گا کہ ناول شائع ہو گیا ہے اور، ایک اخباری کالم سے اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں کرنی چاہئے۔یہ ناول اس صنف کی عام ٹیکنیک سے ہٹ کر لکھا گیا ہے۔ یعنی یہ صاف سیدھا بیان نہیں ہے اور اس میں شاعری کی طرح کچھ پیچیدگیاں جان بوجھ کر بھی پیدا کی گئی ہیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ واقعات کا بیان اس طرح سے ہے کہ اپنے وقوع کے حساب سے آگے پیچھے کر دیئے گئے ہیں ، اور اس لئے قاری کے لئے ذہنی مشقت کا بھی سامان پیدا کیا گیا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان اس کے پس منظر میں نہ صرف موجود ہے بلکہ اس کا اختتامیہ بھی بنتا ہے۔ چنانچہ اس میں تشدد کا بیان بھی ہے، اور، ڈرامہ بھی۔ شاعری میں تازگی لانے کے لئے جہاں بہت سے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں وہاں فکشن کو مرغوب اور دلچسپ بنانے کے لئے بھی بہت سے طریقے آزمائے جاتے ہیں جن میں سے ایک اس ناول میں بروئے کار لایا گیا ہے۔اس خصوصی ٹیکنیک کے باوجود ناول میں قاری کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ہے جو کہ کامیاب فکشن کے ایک بنیادی وصف اور شرط کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ اس کے کردار بھی قاری کو متوجہ کئے رکھتے ہیں ۔ زیادہ تر افسانے اور، ناول بھی، چلتے چلتے اپنے منطقی انجام کو خود ہی پہنچتے ہیں اور مصنف کو اس کے لئے کوئی خاص تردد نہیں کرنا پڑتا، نہ ہی وہ یہ طے کر کے افسانہ یا ناول شروع کرتا ہے کہ وہ اسے فلاں انجام سے دو چار کرے گا۔ محمد حمید شاہد کے تین افسانوی مجموعوں کے بعد ان کی طرف سے یہ پہلا ناول آیا ہے جس کا پس سرورق شمس الرحمان فاروقی کے قلم سے ہے اور کوئی سوا سو صفحات کی ضخامت کو محیط یہ ناول”اکادمی بازیافت” کراچی نے پوری آب و تاب سے شائع کیا ہے جس کی قیمت 150 روپے رکھی گئی ہے۔ کتاب آدمی کے نام ہے جو مٹی کی محبت میں دیوانہ ہو چکا ہے۔ مصنف کی دیگر تصانیف معہ زیر طبع کتابوں کی فہرست کے علاوہ موصوف پر اب تک جو کام ہو چکا ہے اور جو اعزازات مصنف نے اب تک حاصل کئے ہیں ، ان کا تعارف بھی شامل شمس الر حمن فاروقی
دکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے
دکھ انسانی صورت حال کا مستقل عنصر ہے۔ یہ ہمہ جہت اور ہمہ وقوع ہے۔ اولیاء اللہ کرام کو ہر باب میں نفس مطمئنہ حاصل ہوتا ہے لیکن دکھ سے خالی وہ بھی نہ تھے۔ حضرت نظام الحق والدین نظام الاولیا اکثر راتوں کو نہ سوتے اور اشکبار رہتے۔ ایک بار امیر خسرو نے ہمت کر کے اس کا سبب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ جب اس شہر میں ہزاروں بندگان خدا پر رات اس طرح گذرتی ہے کہ ان کے پیٹ میں روٹی نہیں اور تن پر چادر نہیں تو میں کیوںکہ سو سکتا ہوں۔ مشہور ہے کہ حضرت بابا نظام الدین صاحب رات کو استراحت کرنے کے پہلے گھر کا سب غلہ ، شکر، کھانا، حتی کہ پانی اور نمک بھی تقسیم فرمادیتے اور صرف اتنا پانی بچا رکھنے کا حکم دیتے جو تہجد اور فجر کے وضو کے لئے کافی ہو۔ میر کا شعراسی واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے-دیوان سوم-جب سے ملا اس آئینہ رو سے خوش کی ان نے نمد پوشیپانی بھی دے ہے پھینک شبوں کو میرے فقیر قلندر ہےکبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جینا اور دکھ سہنا ایک ہی شے ہیں، یا یوں بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ جو دکھ سہتا ہے وہی جیتا ہے۔ اقبال نے اسی بات کو ایک
اور رنگ میں ڈال کر انسان سے، یا شاید خدا سے، یا شاید دونوں ہی سے پوچھا تھایہ شب درد و سوز غم کہتے ہیں زندگی جسےاس کی سحر ہے تو کہ میں اس کی اذاں ہے تو کہ میں بظاہر اقبال کو کسی جواب کی توقع نہ تھی، اگر چہ ان کے کلام میں بعض ایسے بھی مقام آتے ہیں جہاں سوال سے زیادہ جواب کا وفور معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسان ان کے یہاں بھی سرراہ بیٹھا ستم کش انتظار نظر آتا ہے۔ اجنبی اور غیر جنس کائنات میں انسانی وجود کا مقدر یہی ہے کہ وہ طرح طرح کے دکھ سہے۔ محمد حمید شاہد کے اس چھوٹے سے لیکن بقیمت بہت بہتر ناول میں دوراوی ہیں اور ان میں سے ایک اپنے باپ کے بارے میں بتاتا ہے:وہ اس بات پر یقین رکھتا رہا کہ ایک روز وہ معمول کی طرح یوں ہی اپنے بدن کو خوب تھکا کر سوئے گا اور موت سے ہم کنار ہوجائے گا۔ اور ہوا بھی یہی... اس روز وہ پوری طرح خالی الذہن تھا۔ اس نے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالا کہ اس کا انگ انگ دکھنے لگا حتی کہ اس کا وہیں ایک کونے میں بچھی پرالی تک پہنچنا بھی ممکن نہ رہا۔ اس نے دوچار قدم جیسے عادتاً اٹھائے اور گھوڑوں کے عقب میں پہنچ کر ننگی زمین پر ہی ٹانگیں پسار کر ڈھیر ہوگیا۔ اگلے روز اس کا مردہ وہیں سے یوں اٹھایا گیا کہ اس کا بدن دوہرا ہوگیا تھا۔ جب زندگی خالی الذہن ہو کر گذرے تو ہم توقع کر سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھی محسوس نہ ہوگا۔ لیکن راوی کا باپ خالی الذہن ہونے کے باوجود احساس کی دولت (لعنت؟) سے عاری نہ تھا۔ ہمیں بتایا جا تا ہے کہ ’’چکرا کر گرتے وقت وہ زندہ تھا، اسے سوتے میں شدید سردی نے مار دیا تھا۔ ‘‘ یہ سردی شاید صرف موسم کی سردی نہ تھی، بلکہ بنی نوع انسان کے دلوں کی سردی تھی۔ ناول کا دوسرا واحد متکلم راوی اپنی محبوبہ کے بارے میں ہمیں بتاتا ہے:یقین جانو یہ تو میرے گمان میں بھی نہ تھا وہ اپنی زمین چھوڑ نے کو تیار ہو جائے گی۔ابھی تک ہم دونوں پانی میں کھڑے تھے۔ انھوں نے اسٹیمر چلا دیا۔ میں بوکھلا کر اسٹیمر کی طرف لپکا۔ اسی اثنا میں ادھر سے سنسناتی ہوئی گولی آئی اور میری ران چیرتی ہوئی نکل گئی۔ منیبہ سب کچھ بھول کر یوں میری جانب بڑھی جیسے پھر سے زندہ ہوگئی ہو۔ اس نے مجھے تھام لیا اور ایک لمحے کا توقف کئے بغیر مجھے اسٹیمر کی طرف ڈھکیلا اور اس پر چڑھنے میں مجھے مدد دی۔ اب اسٹیمر کا رخ گہرے پانیوں کی طرف تھا مگر وہ وہیں کھڑی رہی۔ میں نے صاف صاف دیکھا تھا کہ فوراً بعد اس کا جسم وہیں پانی کے اوپر تک اچھلا تھا۔ میں نے گولیوں کی آواز نہیں سنی تھی۔ محض اس کا اچھلتا ہوا وجود دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ جہاں سے پانی کے چھینٹے اوپر کو اٹھے تھے وہاں کوئی اور حرکت نہیںہوئی تھی۔ ایک شخص اپنے باپ سے محروم ہوجاتا ہے۔ دشمن کے ہاتھوں نہیں، یہ اس کے اپنے ہی ہیں جو اس کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ ایک عورت کو اس کے اپنے گولی مار دیتے ہیں، کیوںکہ وہ انھیں چھوڑ کر جانا چاہتی ہے۔ ایک شخص جسے بچ رہنے کا کوئی حق نہیں (کیوںکہ اس کی محبوبہ نے اس کی خاطر اپنا گھر، اپنا پہلا شوہر، اور اپنی زمین ہی نہیں چھوڑی، بلکہ ایک اصول حیات کو چھوڑا ہے)، وہ لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہوتے ہوتے بچ نکلتا ہے۔ دکھ کی چادر بیمار اور صحت مند قوی اور ضعیف، سب کو ڈھک لیتی ہے۔لیکن جو بچ نکلا وہ بچا نہیں۔ اس کی منیبہ کو مکتی باہنی کے کسی بہادر نے گولی ماردی تو کسی خرم بھائی کی زر جان کا دامن اس سے باندھ دیا گیا اور زر جان کی ماں بیگم جان کو اس کامیاں اسے مار مار کر ادھ مرا کر دیتاہے اور کہتا ہے کہ تو ہی اس لونڈیا کو شہر میں پڑھنے کے لئے لائی تھی، یہ سب کرتوت تیرے ہیں۔ اور اس کے اگلے ہی روز زرجان کا خرم کسی ’’حاثے‘‘کا شکار ہوکر اسی بے بس دکھ کی آغوش میں جان دیتا ہے جس نے پہلے راوی کے باپ پر رات نہ گذرنے دی تھی۔ زرجان کو نکاح کے دھاگے میں باندھ دینے سے زندگیاں سدھر یں گی نہیں۔ دکھ نے منیبہ کے معشوق کیپٹین سلیم اور خرم کی معشوق زرجان دونوں کو کہیں اندر زخمی کر دیا ہے۔ زرجان کے باپ چہیتا گھوڑا سنہریا بھی اچانک زخمی ہوگیا تھا، لیکن اس کا زخم اس کے دائیں گھٹنے پر تھا۔ زرجان، سلیم، اور سنہریا کے زخموں میں مشابہت یہ ہے کہ ان میں سے کسی کا زخم مند مل نہیں ہوتا۔دونالی سے شعلے نکلے اور سنہریا گر کر زمین پر تڑپنے لگا۔ خان جی پلٹے، کہا، ’’اب یہ ہمارے کام کا نہیں رہا۔‘‘ پھر دو نالی کو جھٹکے سے دوہرا کیا اور کارتوس کے خول نکال کر اچھالتے ہوئے کہا، ’’جو کام کا نہیں رہتا، کہیں کا نہیں رہتا۔‘‘ زرجان کا کپتان شوہر اسے آٹے کی عورت کہتا ہے، ایسی عورت جس سے بھوک تو مٹ سکتی ہے لیکن جو ’’روح پر دستک‘‘ نہیں دے سکتی۔ لیکن اس کا دکھ یہ نہیں ہے کہ اس کے پاس جو عورت ہے وہ آٹے کی عورت ہے۔ اس کا دکھ یہ ہے کہ وہ زمین کو کھر چتا رہتا ہے۔ پہلا راوی کہتا ہے، ’’نئے دکھ کی شدید باڑھ میں میرے قریب آنے والا ایک دم فاصلے پر ہوگیا تھا... دکھ نے تو ایک ہی ہلے میں ہمیں قریب کردیا تھا... وہ سنتا رہتا اور جب اسے دھیا ن بڑھانا ہوتا تو زمین کھرچنے لگتا تھا۔‘‘ وہ زمین کھرچتا ہے، شاید اس لئے کہ زمین ایک دن سونا اگل دے گی، یا شاید اس لئے کہ وہ زمین میں سوراخ کر کے پاتال تک پہنچ جائے گا جہاں منیبہ اس کا انتظار کررہی ہے۔ لیکن اسے پتہ چلتا ہے کہ ’’مٹی تو مٹی ہے، یہ اپنی کہاں رہتی ہے۔‘‘محمد حمید شاہد اپنے افسانوں میں ایک نہایت ذی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتے ہیں۔ بظاہر پیچیدگی کے باوجود (مثلاً ان کا زیر نظر ناول، اور ’’شب خون‘‘ ۳۹۲تا۹۹۲میں مطبوعہ ان کا افسانہ ’’بدن برزخ‘‘) ان کے بیانیہ میں یہ وصف ہے کہ ہم قصہ گو سے دور نہیں ہوتے، حالانکہ جدید افسانے میں افسانہ نگار بالکل تنہا اپنی بات کہتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ (اسی بات کو باختن نے یوں کہا تھا کہ فکشن نگار سے بڑھ کر دنیا میں کوئی تنہا نہیں، کیوںکہ اسے کچھ نہیں معلوم کہ اس کا افسانہ کون پڑھ رہا ہے اور کوئی اسے پڑھ بھی رہا ہے کہ نہیں۔) اسی وجہ سے جدید افسانہ نگار اپنے قاری کے لئے کتابی تو وجود رکھتا ہے لیکن زندہ وجود نہیں رکھتا۔ محمد حمید شاہد اس مخمصے سے نکلنا چاہتے ہیں اور شاید اسی لئے وہ اپنے بیانیے میں قصہ گوئی، یا کسی واقع شدہ بات کے بارے میں ہمیں مطلع کرنے کا انداز جگہ جگہ اختیار کرتے ہیں۔محمد حمید شاہد کی دوسری بڑی صفت ان کے موضوعات کا تنوع ہے۔ اس لحاظ سے وہ منشا یاد سے کچھ کچھ مشابہ لگتے ہیں لیکن محمد حمید شاہد کے سروکار سماجی سے زیادہ سیاسی ہیں، حتی کہ وہ اپنے ماحولیاتی افسانوں میں بھی کچھ سیاسی پہلو پیدا کر لیتے ہیں۔ ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی کوشش رومان اور تشدد کو یکجا کر دیتی ہے۔ اسے محمد حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگارگو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔ دکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے۔سبق اردو، دربھنگہ ،بھارت شمارہ 18