Showing posts with label محمدحمید شاہد کےافسانے. Show all posts
Showing posts with label محمدحمید شاہد کےافسانے. Show all posts

Saturday, March 7, 2009

تنقیدی مطالعہ: سورگ میں سور

حلقہ ارباب ذوق‘ راولپنڈی
محمدحمید شاہدکےافسانے سورگ میں سور کاتنقیدی مطالعہ


ڈاکٹر نوازش علی:افسانے میں استعمال کی گئی علامتوں کو ہی کھولنا شروع کروں تو بات بہت طویل ہو جائے گی۔ افسانے کی علامتوں میں سیاست کو معیشت کے ساتھ جوڑ کر عالمی منظر کو بیان کیا گیا ہے۔ افسانے میں زبان بہت خوب صورت ہے۔ اس میں ایک flow ہے اور کہیں بھی ابہام پیدا نہیں ہوتا ۔ اور یہ ایک بار پڑھنے اور سننے والا افسانہ نہیں ہے ۔ ہر بار پڑھنے سے نئی صورت سامنے آتی ہے ۔ اور اس افسانے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کا کوئی بھی جملہsituation سے باہر نہیں ہے ۔ بہت خوب صورت افسانہ ہے۔
علی محمد فرشی:کہانی کا تخلیقی فریم مقامی ہے۔ افسانے میں استعمال کی گئی علامتوں کو اگر کھولا جائے تو ہمیں در پیش عصری مسائل کی طرف لے جاتی نظر آتی ہیں۔ کہانی کے سورگ سے ہمارے اپنے سورگ تک جو سفر کیا گیا ہے یہ ہمارے عہد کے المیے کی مکمل علامت بن جاتا ہے۔ گلہ بانی کے حوالے سے کہانی نے اپنی اُٹھان پکڑی ہے ۔ گلہ بانی سے زراعت کی طرف سوسائٹی کے move کرنے سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیںافسانے میں انہیں خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ افسانے میں بیان کی گئی کہانی کو اگر گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد کے حالات کے تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو ہمیں اس میں استعمال کی گئی علامتوں کی معنویت کی ایک اور سطح نظر آئے گی۔ افسانے میں حمید شاہد نے مقامی زبان اور وہ الفاظ جو مقامی لحاظ سے terms کے طور پر بولے جاتے ہیں ان کو استعمال کر کے فضا بندی کی ہے ۔ افسانے کی علامتیں مثلاً سور‘ کتے ‘ بکریاں‘ اپنے مواد اور موضوع کے حوالے سے خوب آئی ہیں ۔ اور جہاں تک بات ہے اسلوب کی تو میں سمجھتا ہوں کہ حمید شاہد اپنی کہانی کے حوالے اپنا الگ اسلوب بناتے ہیں۔
رفعت اقبال:اس افسانے میں جو اسلوب بنا ہے اس کے پیچھے ایک روایت موجود ہے ۔ اس کی ایک مثال مستنصر حسین تارڑ کا ”بہاﺅ“ ہے ۔ افسانے میں ہمارے دیہی ماحول کی خوب صورت عکاسی کی گئی ہے۔
جہانگیر عمران:تارڑ نے ”بہاﺅ “میں بہت قدیم الفاظ استعمال کئے جب کہ اس افسانے میں مقامیت کے حوالے سے برتے گئے الفاظ ہمارے اپنی عہد ہی الفاظ کے ہیں تاہم انہیں علامتی سطح دی گئی ہے ۔ یوں یہ افسانہ ایک سطح پر ستر کی دہائی کے افسانے سے جڑ جاتا ہے ۔ افسانے میں استعمال کی گئی علامتیں مقامی اور عالمی سطح پر منطبق ہوتی ہیں ۔
اصغر عابد:حمید شاہد اپنے اسلوب میں الگ اور اپنی لغت کے حوالے سے ایک انفرادی اساس بناتے ہیں۔ وہ مقامی ماحول سے اسلوب کے عناصر لیتے ہیںاور افسانے میں معاشی‘ معاشرتی ‘تہذیبی اور تمدنی حوالے لاتے ہیں۔ کہانی میں ’بابا‘ کا کردار بہت اہم ہے ۔ یہ تھرڈ ورلڈ کی کہانی ہے اور اس میں علامتوں کے ذریعے بین الاقوامی مسائل کا احاطہ بھی کیا گیا ہے۔ اس میں اپنے دکھوں اور خوشیوں کا بیان بھی خوب ہے۔
شعیب خالق:حمید شاہد کے اس افسانے میں مجھے بہت ہانٹ کیا ہے۔ علامت کے استعمال اور content کے حوالے سے بہت خوب صورت افسانہ ہے۔ بکریوں کی بیماریاں بہت خوبی سے آئیں مگر سوروں کی بیماری کا ذکر نہیں ہے ۔
اختر عثمان:حمید شاہد کے ہاں علامتوں سے زیادہ دو طرح کے تمثیلی عناصر نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں کہیں بھی علامت چیستاں نہیں بنتی۔ آج کے فنکار کے پیش نظر اپنا ماضی اور حال دونوں ہوتے ہیں۔ اسی طرح حمید شاہد صرف لوک دانش تک نہیں رہ جاتے بلکہ آج کے مسائل کا بھی بھر پور ادراک رکھتے ہیں۔ افسانے میں بوڑھے کا کردار لوک دانش کا کردار ہے جبکہ علامتوں سے آج کے مسائل کی جھلک دکھائی گئی ہے ۔ حمید شاہد کے افسانوں میں مقامی الفاظ کا استعمال بہت خوب ہے ۔ اس افسانے کی ابتدا‘ اصل میں اس فصل کی کاشت سے ہوتی ہے جو سوروں کی مرغوب غذا ہے۔ افسانے کے کردار اسے خود استعماریت تک لاتے ہیں۔ اس کہانی میں خانہ بدوشی سے شروع ہونے والی زندگی دوبارہ خانہ بدوشی کی طرف پلٹتی دکھائی دیتی ہے ۔یہ ایک grand style کا افسانہ ہے۔ جہاں تک گلوبلائزیشن کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ گلوبلائزیشن کوئی شتر گربگی کی علامت نہیں ہے۔ افسانے میں بابا کی فکر ہمیں آگے چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔
عابد سیال :افسانے کی جو خوبیاں یہاں بیان کی گئی ہیں وہ اس افسانے میں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ تاہم حمید شاہد نے افسانے کو خوب صورت الفاظ کا مرقع بنادیا ہے ۔
جلیل عالی:بہت خوب صورت افسانہ ہے ۔ اس میں جانوروں کی بیماریوںکے بیان میں تناسب کا قرینہ موجود ہے ۔ جب exactness زیادہ ہوجاتی ہے تو علامت allegory بن جاتی ہے اور یہ ا فسانہ علامتی سطح پرallegory بن گیا ہے ۔
نصر اللہ نصر:افسانے کی مرکزی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کا انحصار معیشت پر ہے۔ افسانے کی جزیات درست اور بر محل ہیں سوروں‘ کتوں اور بکریوں کا علامتی استعمال مغرب اور مشرق کے حوالے سے آیا ہے۔
داود رضوان:علامت نگاری کی کئی قسمیں ہیں ۔ اس افسانے میں تمثیلی علامت نگاری سے کام لیا گیا ہے ۔ یہاں بکری کی علامت مشرق اور معصومیت کی روایت کو سامنے لاتی ہے۔
ڈاکٹر نوازش علی:بھیڑ ‘بکریاں صدیوں سے ہمارے معاشرے کاحصہ ہیں۔ جب کہ سور ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں ہیں اس لیے ان کا افسانے میں زیادہ بیان نہیں ہوا ہے ۔ کوئی بھی فن کار اپنی مقامیت سے جڑے بغیر آفاقیت تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس افسانے میں حمید شاہد نے اپنی بنیاد سے وابستہ ہونے کی کو شش کی ہے۔ افسانہ نگار کا ایک کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ہمیں دوسری زبانوں سے آگاہ کرے‘ اس افسانے میں حمید شاہد نے یہ کام بھی بطریق احسن کیا ہے۔ اس افسانے کادوسرے افسانہ نگاروں کے افسانوں سے تقابل نہیں کرنا چاہیے۔

( بشکریہ حلقہ ارباب ذوق‘ راولپنڈی: مورخہ ۴۱ اپریل ۲۰۰۲ئ)

٭٭٭

Saturday, February 14, 2009

Marg Zaar

M.Hameed Shahid’s "Marg Zaar"
Islamabad__ M.Hameed Shahid’s stories written in the backdrop of 9/11 have introduced a different genre in Urdu fiction and by doing this he has set an example for other writers to follow.
Chairman Muqtadara Qaumi Zuban Prof Fateh Muhammad Malik held this opinion of Hameed Shahid’s stories while presiding over the launching ceremony of Hameed Shahid’s third collection of short stories titled as Marg Zaar at the Academy of Letters on Sunday.
Chairman Pakistan Academy of Letters Iftikhar Arif, eminent short story writer and play writer Mansha Yad, noted scholar Mubin Mirza, Nasir Abbas Nayyir, Ali Muhammad Farshi, Manzar Naqvi and Asghar Abid discussed different features of Hameed Shahid’s short stories. They gave an overview of general as well as particular themes in Hameed Shahid and called him “a prominent voice” who has a sensitive pen steeped in the woes and conflicts of modern times.
Prof.Fateh Muhammad Malik held that Hameed Shahid’s short stories are woven well. They remind one of Baidi and Manto as far as the questions of self and identity are concerned. He said Hameed Shahid has never lost touch with his soil and takes us back to days when values had certain place in our lives and people had an ear for a word of advice and goodness.
Iftakhar Arif said the use of the local vocabulary in Hameed Shahid is commendable. Though he looks at the word beyond him while his feet are firmly planted on earth. He called “Sovarg Mein Sour” (a pig in the paradise) his representative story and drew a comparison between him and other writes of short stories.
Mubin Mirza, a scholar and critic from Karachi, held that Shahid’s short stories not only reflect suffering of those living around but they also point out the global conspiracies and big powers’ ruthless use of force against the down-trodden nations. These aspects, said he, have contributed a great deal the growth of the writer’s creative genius.

Mansha Yad said Hameed Shahid has experimented with dictions, plot and different techniques of the story. He called Hameed Shahid a promising young writer whose has found a place in the list of first rate writers.
Ali Muhammad Farshi said according to writer of Marg zaar the whole world after 9/11 has turned into a battlefield where people in confusion as to whom their real enemy is. The stories foretell that thus graveness of future days the world is going to face, he said.
Nasir Abbas Nayyir (from jhang) high lighted different stages of self-reflexivity in Hameed Shahid and said his short stories are a good example of realism blended with creativity and folk wisdom.
Hameed Shahid while offering gratitude said it was the internal woes and feelings of sorrow that made him writes stories. He said a writer however focused to the story at hand could not live in isolation from the changes occurring around him. He said the gulf that appeared between the third world countries and the US after 9/11 shook him deep inside and he could not help making this a subject matter of his stories. An article by Amjad Tufail (from Lahore) was also read on this occasion. Dr. Najiba Arif and Manzar Naqvi introduced Hameed Shahid’s work to the audience.
(Pakistan OBSERVER 6 December 2004)

Halqa writers discussed short stories
Islamabad __ Hameed Shahid collection of short stories titled Marg zaar was described as well constructed in a meeting of Halqa Arbab-e-Zauq held here. Iftakhar Arif described the collection as one of the best written on the 9/11 incident, and Masnsha Yad had said that that by writing those stories the writer had joined the ranks of outstanding ficton writer of Urdu.
(DAWN: December 5, 2004)

Friday, February 13, 2009

منشایاد

منشایاد
افسانے کی نئی نسل کا معتبر نام: محمد حمید شاہد

محمدحمید شا ہد افسانہ نگار ہیں اوران کی نثری نظموںبلکہ نثموں کی ایک کتاب بھی چھپ چکی ہے لیکن وہ کہانی کونثری نظم یانثم بناناپسند نہیںکرتے۔ یوں توان کی شاعر اورافسانہ نگار کے علاوہ بعض اور بھی ادبی حیثیات ہیںجیسے نقاد،تاریخ نگار اور کالم نویس وغیرہ بلکہ ان کی تخلیقی جہات پر اظہرسلیم مجوکہ کی مرتب کردہ ایک پوری کتاب شائع ہوچکی ہے۔اور اس میںشک نہیںکہ وہ زرخیز ذہن اور فعال طبیعت کے تخلیق کارہیں۔ ان کے سوچنے اورلکھنے کی رفتار بہت تیزہے ۔انہیں ملک اور دنیا کے نئے اورعصری معاملات اورمسائل سے پوری آگاہی ہے اوران کی فکر راست ہے ۔وہ ہنگامی اورسامنے کے موضوعات کوبھی کوفکشن بنانے کی صلاحیت سے بھی مالامال ہیںہے ۔بلکہ اس سے ان کی تحریروں میں واقعیت ،اثرپذیری اورزور پیداہوجاتاہے۔ ان کے افسانوں کے تین مجموعے شا ئع ہو چکے ہیں ‘بند آنکھوں سے پرے ‘جنم جہنم اور اب نیا مجموعہ” مرگ زار“ جسے اکادمی بازیافت نے کراچی سے شائع کیا ہے ۔
میں نے ان کے دوسرے مجموعہ ”جنم جہنم“ کے بارے میں نے کہاتھاکہ حمید شاہد کے فن ِافسانہ نگاری کی اہم خوبی ہے کہ وہ کسی ایک خاص ڈکشن کے اسیر نہیں ہوئے اور صاحبِ اسلوب بننے کی کوشش میں خود کو محدود نہیں کیا ۔صاحبِ اسلوب اور صاحبِ طرز کہلانے کی خواہش نے اچھے اچھوں کو ضائع کر دیا ۔کوئی موضوع یا مواد خواہ کتنا ہی قیمتی ہوتا اگر ان کے پہلے سے بنائے گئے فنی سانچے میں فٹ نہ ہوتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے مگر اپنے اسلوب میں لچک برداشت نہ کرتے۔ انہیں کہانی سے زیادہ اسلوب عزیز ہوتا۔مگر حمیدشاہد کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ وہ خیال ،مواد اورموضوع کے ساتھ تکنیک اور اسلوب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی پیدا کرلیتے ہیں۔ وہ ہررنگ کی کہانی لکھنے پرقادرہیںان کی کہانیاں زمین سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔اپنی تہذیب ،ثقافت اور اقدار کی خوشبولئے ہوئے اورافسانے کی روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے ۔لیکن تازگی اورندرت کی حامل اورایسی پراثرکہ پڑھ لیں تو پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔اندر حلول کرجاتی ہیں۔ خون میں شامل ہو جاتی ہیں۔میںسمجھتاہوںیہ خوبیاںان کے موجود ہ افسانوںمیںبھی موجود ہیںبلکہ انہوں نے کچھ نئے موضوعات اور تجربات بھی شامل کئے ہیںیاان میںاضافہ کیاہے۔ ہمارے ہاں دفتری زندگی پربہت کم لکھنے والوں نے توجہ دی ۔اس موضوع پرقدرت اللہ شہاب ، منیر احمد شیخ اوروقاربن الٰہی کے بعد حمیدشاہد کی کہانیاںقابل توجہ ہیں۔ مرگ زار میں شامل ان کی کہانی ” ادارہ اور آدمی “اس کی ایک عمدہ اور بھرپور مثا ل ہے ۔
موضوعات کی سطح پرانہوں نے بہت سی نئی چیزیں لکھیں۔ وہ کہانی جس پرکتاب کانام رکھاگیا بہت مشکل موضوع تھا اور یہ کہانی نازک ٹریٹمنٹ کاتقاضاکرتی تھی ۔میرے خیال میںیہ کہانی لکھتے ہوئے انہیں بھی خاصی احتیاط اورمشکل کاسامناکرناپڑا ہوگا۔ مگر وہ اپنی بات اورموقف کوتجریدکی دھند سے نکالنے اور بیان کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ا س کہانی کاموضوع جہاداورشہادت جیسا نازک مسئلہ ہے جس کی کچھ عرصہ پہلے تک کچھ اورصورت تھی اب نائن الیون اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے کچھ اورصورت بن گئی ہے۔یہ ایک دہلادینے والی پراثر کہانی ہے ۔اپنے بھائی کی لاش کے ٹکڑے ۔پھراس کتاب میںانہوںنے موت کی اور کئی ایک شکلوں کامطالعہ کیااور اس کے جبر اور انسان کی بے بسی کی مختلف صورتیں دکھائیں ہیں۔ ”موت منڈی میںاکیلی موت کاقصہ“ تومیںنے خود بنتے بھی دیکھی اوراس بات کاشاہدہوں کہ وہ اس کرب اور تکلیف کو ہوبہوگرفت میں لینے میں کامیاب ہوگئے جوکہانی کے جنم گھرمیں ہم سب کوپیش آئی تھی۔ موت کی منڈی کی اصطلاح پنجابی ایکسپریشن ”مویاں دی منڈی‘ ‘ کے قریب اوربہت خیال انگیز ہے ۔اسی طرح ان کی ایک کہانی ”موت کابوسہ“ بھی ایک حقیقی کردار کی کہانی ہے ۔’لوتھ ‘اور’دکھ کیسے مرتاہے‘ یہ سب صدموں او ر دکھوں کی کہانیاں ہیں لیکن آپ ان سب کہانیوں کوکھنگال کردیکھ لیں ان میںاصل نام کہیںنہیںملیں گے۔ یہی وصف ان کہانیوں کوسچی اورحقیقی ہونے کے باوجودفکشن بننے سے نہیںروکتا ۔
اگرچہ اس مجموعے میں مختلف ذائقے کی کچھ اور کہانیاں بھی ہیںجیسے ناہنجار،آٹھوں گانٹھ کمیت اوربرشور،تکلے کاگھاو،رکی ہوئی زندگی اورمعزول نسل وغیرہ مگر اس کتاب کی کہانیوں کی زیادہ تعداد موت کے مختلف روپ پیش کرتی ہے۔اسی لئے مصنف کومحسوس ہوا کہ اس بار توکہانیاںاس کاکچاکلیجہ چباکرہی مسکرائیں۔لیکن جس کہانی پریہ مجموعہ اور اس کامصنف بجاطورپرفخرکرسکیںگے وہ ان کی کہانی ”سورگ میںسور“ ہے۔اسکی کئی پرتیں ہیں ۔واقعاتی اورسامنے کی سطح پربھی اس کی ایک بھرپور معنویت موجودہے اوراس میںجس خوبصورتی سے جزیات نگاری کی گئی اور بنجرزمینوں کی ثقافت،معاملات ،بکریوں اوران کی بیماریوں اورروگوں کے بارے میں جوتفصیلات دی گئی ہیں وہ ان کے وسیع تجربے ،مشاہدے اورمعلومات کا بین ثبوت ہیں ۔پھرجس طریقے سے یہ کہانی ایک علامتی موڑ مڑتی او رسیاسی جبرکی ایک نئی معنویت سے ہمکنارہوجاتی ہے وہ ان کے فن کاکمال ہے۔انہوں نے اس کتاب میںتکنیک اور اسلوب کے کئی ایک نئے تجربات بھی کئے ہیں۔ جیسے راوی اورمتکلم کو ایک دوسرے سے ا لگ کرتے ہوئے کہانی کوروک کر کئی ایک جگہوںپر وضاحتی نوٹس کااضافہ کرنا۔میںسمجھتاہوں کہ افسانے کی نئی اور موجودہ نسل میں حمیدشاہد کانام اورمقام بہت ہی معتبرہے اور ’مرگ زار‘ کے افسانے اس کی بہترین اورخوبصورت مثال ہےں۔

ڈاکٹراسلم فرخی


دراصل محمد حمید شاہد وہ بیباک اور معنی آفریں شاعر ہے جو زندگی کی سفاکیوں کو زیادہ قریب سے نمایاں کرنے اور بہ انداز شعر بیان کرنے کی خاطر افسانے کی محفل میں دراتا چلا آیا ہے ۔اس نے اپنی شاعرانہ سرشت سے افسانے میں حقیقت پسندانہ انداز کے ساتھ شعریت کو سمو کر ایسی روایت کی تخلیق کی ہے جس کی اساس صداقت اور ہمہ گیر انسانی جذبہ ہے۔محمد حمید شاہد کے افسانوں میں شہر اور دیہات دونوں ایک رشتہ میں بندھے نظر آتے ہیں ۔ دونوں میں خارجی وجود کا بھرپور اظہار بھی کرتے ہیں اور ان کے باطن سے ایک نہیں کئی لہریں اٹھتی اُبھرتی اور پھیلتی محسوس ہوتی ہیں۔ محمد حمید شاہد نے بھر پور اظہار اور اٹھتی ابھرتی اور پھیلتی لہروں کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔ یہ افسانے محمد حمید شاہد کے خوب صورت ہمہ جہتی انداز اور فکر کا آئینہ دار ہیں۔

احمد ندیم قاسمی


محمد حمید شاہد نے سچی اور کھری زندگی کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا ہے ۔وہ کہانی کہنے کے فن پر حیرت انگیز طور پر حاوی ہے ۔ اس کے افسانوں کے ہر کردار کو زندگی کے اثبات یا نفی‘مسرت یامحرومی کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ان افسانوں کا ایک ایک کردار ایک ایک لاکھ انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔محمد حمید شاہد نے اپنے افسانوں کو لمحہ ¿ رواں کی معاشرتی اور تہذیبی زندگی کی تاریخ کا درجہ بھی دے دیا ہے۔

ممتاز مفتی

ہم آج تک اپنی پر اسرار” میں“ کو نہیں سمجھ پائے تو دوسروں کو کیا سمجھیں گے۔ کہانی اس پر اسرار ”میں“ کی جھلکیاں پیش کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے کہانی ایک عظیم تخلیق ہے ۔ ہر کہانی کار انسانی” میں “ کی ”پرزم“ کے رنگوں کی جھلکیاں دکھانے کی کوشش کرتا ہے ‘ دقت یہ ہے کہ بات کا صرف کہہ دینا کافی نہیں ہوتا ۔ ضروری ہے کہ بات پہنچ بھی جائے۔ محمدحمید شاہد کے بات کہنے کا انداز ایسا ہے کہ وہ پہنچ جاتی ہے ۔ اس کے بیان میں سادگی اور خلوص ہے‘ خیالات میں ندرت ہے۔ اس کا نقطہ نظر مثبت ہے اور اس کی سچائیوں میں رنگ ہے ‘رس ہے ۔

Thursday, February 12, 2009

پروفیسر فتح محمد ملک

پروفیسر فتح محمد ملک

بند آنکھوں سے پرے‘ جنم جہنم اور مرگ زار


محمد حمید شاہد ظاہر کی آنکھ سے تماشا کرنے کے خوگر بھی ہیں اور دل کی آنکھ کھولنے میں کوشاں بھی۔ وہ عصری زندگی کے مصائب پر یوں قلم اٹھاتے ہیں کہ عصریت اور ابدیت میں ماں بیٹی کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ ان کی کہانیاں شہر وجود کے خارجی احوال و مقامات کی سیر بھی کراتی ہیں اور حاضر و موجود کا طلسم توڑ کر غائب اور نارسا کی جستجو میں ان گنت گہرے خیالوں کو بھی جنم دیتی ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محمد حمید شاہد نے ملا وجہی سے لے کر انتظار حسین تک ”سب رس“ سے لے کر ”شہر افسوس“ تک اردو فکشن کے تمام تر اسالیب کو سوچنے سمجھنے اور دیکھنے بھالنے کے بعد افسانہ نگاری کی اقلیم میں قدم رکھا ہے۔محمد حمید شاہد کے افسانوں کی پہلی کتاب”بند آنکھوں سے پرے“ میں ہر دو روایات الگ الگ اپنا جادو جگا رہی ہیں” برف کا گھونسلا“ اور ”مراجعت کا عذاب“ میں جہاں وہ حقیقت نگاری کے اسلوب کو فنی مہارت کے ساتھ برتتے ہیں وہاں” آئینے سے جھانکتی لکیریں “ اور ”اپنا سکہ“ میں ہمیں شہر باطن کے شہر کی سیر کراتے اور کرداروں کے غیر مرئی وجود کا تماشائی بناتے ہیں ۔ محمد حمید شاہد کے افسانوں کے دوسرے مجموعہ”جنم جہنم“ میں خارجی حقیقت نگاری اور باطنی صداقت پسندی کے یہ دو اسالیب باہم دگر آمیز ہونے لگتے ہیں۔ ”نئی الیکٹرا“ ”ماخوذ تاثر کی کہانی“ اور جنم جہنم “ ہمارے افسانوی ادب کی اس نئی جہت کے نمائندہ فن پارے ہیں۔محمد حمید شاہد فلسفہ و تصوف میں اپنے انہماک کو مادی زندگی کے مصائب و مشکلات سے فرار کا بہانہ ہر گز نہیں بناتے ۔ چنانچہ اسی کتاب میں ‘انہی افسانوں کے پہلو بہ پہلو ہمارے معاشرتی اور اخلاقی زوال پر ”تماش بین“ اور ”واپسی“ کی سی دل پگھلا دینے والی کہانیاں بھی موجود ہیں ۔ وہ حقیقت کے باطن اور باطن کی حقیقت تک رسائی کے تمنائی ہیں .... نائن الیون کے پس منظر میں محمد حمید شاہد نے خوب صورت افسانے تخلیق کرکے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے ۔ میں ان کے افسانوں کا دیرینہ مداح ہوں اور ان کے افسانے محبت اور توجہ سے پڑھتا ہوں ۔” مرگ زار“ جیسی کہانیاں موجودہ عہد کا نوحہ ہیں ۔ ان کے ہاں تہذیبی شناخت کا رویہ بہت نمایاں اور قابل قدر ہے ۔ دوسرے موضوعات کے علاوہ ان کے ہاں غیرت و تقدس کی موت کی کہانیاں بھی نظر آتی ہیں۔ ”برشور“ اور”رُکی ہوئی زندگی“ جیسی کہانیاں تخلیقی جوہر سے اس قدر بھرپور ہیں کہ اگر آج کے عہد میں بیدی اور منٹو ہوتے تو محمد حمید شاہد ان سے بھی داد پاتے ۔ ٭٭٭

افتخار عارف

افتخار عارف

اردو افسانے کا اہم نام:محمدحمید شاہد


محمدحمید شاہد بلا شبہ خالدہ حسین‘ منشایاد‘اسد محمد خان‘مظہرالاسلام ‘ رشید امجد‘ مشرف احمد اور احمد جاوید والی نسل کے بعد اُردو افسانے کے منظر نامے میں ظہور کرنے والی پیڑھی میں ایک بہت معتبر اور نہایت لائق توجہ افسانہ نگار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
”بند آنکھوں سے پرے“ اور ” جنم جہنم “ کی اشاعت کے بعد ہی جہان ادب میں ان کی تخلیقی توانائیوں کا اعتراف کیا جانے لگا تھا ’اب ”مرگ زار “ کے بعد ان کے قدوقامت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ ان کی زیادہ مشہور کہانیوں کا خمیردُنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال اور اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی زندگی کی حقیقتوں کے ادراک کے خمیر سے اُٹھا ہے جس میں اظہار کے تمام جمالیاتی مطالبات خوش سلیقگی کے ساتھ بروئے کار لائے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر حمید شاہد کی کہانیاں احساس اور جذبے کی قوت سے آگے بڑھتی ہیں ۔ اپنی زمین سے اور اپنی تہذیبی روایت سے تشکیل پانے والی آگہی اور شعور کے ثمرات جا بجا رنگ بکھیرتے نظر آتے ہیں ۔ کہانیوں کے بیانیے میں استعمال ہونے والی زبان کی بھی داد دی جانی چاہیے کہ حمید شاہد کی نثر اپنے خالصتاً نثری آہنگ کے سبب دلآویز بھی ہے اور بہت مو ¿ثر بھی۔یہی سبب ہے کہ ایک بار آپ کوئی کہانی اُٹھا لیں تو وہ کہانی اپنے نثری آہنگ کی قوت پر آپ کو اختتام تک زنجیر کیے رکھے گی۔ حمید شاہد میرے نزدیک اُن محدود افراد میں ہیں جن سے اُردو افسانے کے وقار و اعتبار میں یقیناً اضافہ ہوگا۔